سیاسی اختلافات اپنی جگہ کل کے یکجہتی مارچ میں بھر پور شرکت کرینگے ، فاروق حیدر

سابق وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں کشمیر و سابق صدر مسلم لیگ ن آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ بحیثیت کشمیری ہماری بنیادی ذمہ داری بنتی ہے کہ ہم مقبوضہ جموں کشمیر کے مظلوم و محکوم عوام کے ساتھ مکمل اتحاد و یکجہتی کے ساتھ کھڑے ہوں ،ہمارے اختیار میں یہ تو ہے کہ ان کے لیے باہر نکلیں اور اس قومی مقصد کے لیے سیاسی اختلافات اپنی جگہ 24 فروری کو یکجہتی مارچ میں آزاد جموں وکشمیر کے عوام بھرپور طور پر شامل ہوں ، یہ دن مقبوضہ جموں کشمیر میںہندوستانی بربریت کے خلاف برسرپیکار اپنی آزادی کے لیے قربانیاں دینے والے عظیم کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کا دن ہے اس میں عوام سے شرکت کی اپیل ہے۔ قانون ساز اسمبلی میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سابق وزیراعظم راجہ محمد فاروق حیدر خان کا کہنا تھا کہ 5 اگست 2019 کے بعد سے مقبوضہ جموں کشمیر ایک جیل کا منظر پیش کررہا ہے، نوجوانوں کی ٹارگٹ کلنگ جاری ہے، ہندوستان نے جبراً لوگوں کو اپنا غلام بنا کررکھا ہے لاکھوں غیر ریاستی باشندوں کو وادی میں مستقل سکونت دے کر آبادی کا تناسب تبدیل کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایسا جاری رہا تو کچھ عرصے بعد یہ وہ کشمیر رہیگا ہی نہیں جو موجودہ ہے۔ راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا کہ آزادکشمیر کی سیاسی قیادت نے ہمیشہ قومی معاملات پر سنجیدگی دکھائی ہے اور متحد رہی ہے اس کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے، ہماری حکومتوں اور تمام سیٹ اپ کا مرکز و محور مقبوضہ جموں کشمیر ہونا چاہئے، اس کی آزادی اور وہاں مشکلات میں پھنسے لوگوں کو فراموش کرنا غداری کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ کشمیری اپنا جاندار کردار ہر محاذ پر ادا کریں پاکستان میں بدقسمتی سے گزشتہ 3 سالوں میں قومی امور پر مشاورت کا کوئی اہتمام نہیں ہوسکا جس کا سب سے زیادہ اثر مسئلہ کشمیر پر پڑاہے۔