سیکیورٹی فورسز کی جنوبی وزیرستان میں کارروائی، 10 دہشت گرد ہلاک

سیکیورٹی فورسز نے خیبر پختونخوا (کے پی) کے قبائلی ضلعے جنوبی وزیرستان میں خفیہ اطلاع پر کارروائی کرکے 4 کمانڈروں سمیت 10 دہشت گردوں کو ہلاک کردیا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سیکیورٹی فورسز نے خفیہ ٹھکانوں پر دہشت گردوں کی موجودگی کے حوالے سے خفیہ اطلاع ملنے کے بعد کارروائی کی۔

بیان میں کہا گیا کہ کارروائی کے دوران فائرنگ کا تبادلہ ہوا اور 4 کمانڈروں سمیت 10 دہشت گرد مارے گئے، وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ اور بارود بھی برآمد ہوا۔

آئی ایس پی آر نے بیان میں کہا کہ ‘ہلاک ہونے والے تمام دہشت گرد آئی ای ڈیز (امپروائزڈ ایکسپلوسیو ڈیوائسز) کی تنصیب، کارروائیاں کرنے اور معصوم شہریوں کو ہدف بنا کر قتل کرنے میں متحرک تھے’۔

کارروائی کے حوالے سے کہا گیا کہ ‘یہ دہشت ضلع جنوبی وزیرستان کے اندر مزید دہشت گردی کی کارروائیوں کی منصوبہ بندی کر رہے تھے’۔

بیان میں بتایا گیا کہ ‘پاک فوج ملک سے دہشت گردی کے ناسور کو ہر قیمت پر جڑ سے اکھاڑنے کے لیے پرعزم ہے’۔

‘ایف سی اہلکار شہید’

آئی ایس پی آر کے بیان کے مطابق دہشت گروں کی جانب سے فائرنگ کا ایک اور واقعہ بلوچستان میں پیش آیا جہاں فرنٹیئر کور (ایف سی) کی چیک پوسٹ پر سرحد پار سے ہونے والی فائرنگ سے ایک اہلکار شہید ہوگیا۔

بیان میں کہا گیا کہ دہشت گردوں نے بلوچستان کے علاقے چوکاب میں پاک-ایران سرحد کی دوسری جانب سے چھوٹے پیمانے کے اسلحے سے ایف سی کی چیک پوسٹ نشانہ بنایا۔

آئی ایس پی آر نے کہا کہ دہشت گردوں کی فائرنگ سے ایف سی اہلکار مقبول شاہ شہید ہوگئے جبکہ دوسرا اہلکار زخمی ہوگیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ ایرانی حکام کو مذکورہ واقعے سے آگاہ کردیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ پاکستان اور ایران کے درمیان 959 کلومیٹر طویل سرحد ملتی ہے، دونوں ممالک کے عہدیداروں میں گزشتہ ماہ ملاقات ہوئی تھی اور مستقل سرحدی کمیٹی کی ملاقات کے دوران سرحدی امور پر بات چیت کی گئی تھی۔

دونوں ممالک کے عہدیداروں کے درمیان یہ ملاقات ضلع چاغی میں تفتان سے متصل سرحد کے قریب واقع ایرانی قصبے میر جاوہ میں ہوئی تھی۔

اس سے قبل اسی طرح کی ایک ملاقات جون میں ہوئی تھی، جس کے دوران یہ فیصلہ کیا گیا تھا کہ ایران میں صدارتی انتخابات کے پیش نظر پاک-ایران سرحد پر تفتان اور میر جاوہ کے درمیان سیکیورٹی بڑھادی جائے گی۔