غیر آئینی طریقے سے پانچ ججز کی تعیناتی آج بھی انصاف و قانون کے نام پر ، سیاہ دھبہ ہے، سردار حسن ابراہیم

صدر جموں کشمیر پیپلز پارٹی ممبر قانون ساز اسمبلی سردار حسن ابراہیم نے کہا کہ ہائی کورٹ میں کی گیئں غیر آئینی طریقے سے پانچ ججز کی تعیناتی آج بھی انصاف و قانون کے نام پر سیاہ دھبہ ہے.سردار خالد ابراہیم خان مرحوم نے 2018ء کے بجٹ سیشن میں غیر آئینی طریقے سے کی گئیں ان 5 ججز کی تعیناتی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا حالانکہ بجٹ سیشن میں کی گئی گفتگو کو آئینی تحفظ حاصل تھا لیکن اس وقت کے چیف جسٹس نے آئینی حدود کا تجاوز کرتے ہوئے سردار خالد ابراہیم خان کو غیر آئینی توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا.جموں کشمیر پیپلز پارٹی نے اس کے خلاف ہر محاذ پر آواز بلند کی.قانونی راستہ اپناتے ہوئے چیف جسٹس کے خلاف ریفرنس دائر کیا لیکن کوئی خاطر خواہ نتیجہ سامنے نہ آیا اور چیف جسٹس ابراہیم ضیاء پوری مراعات لیتے ہوئےمدت ملازمت پوری کر گئےلیکن ہائی کورٹ میں غیر آئینی اور میرٹ کے خلاف تعینات 5 ججز آج بھی آئین و قانون پر ایک سوالیہ نشان ہیں.ہائی کورٹ میں انکے خلاف رٹ دائر کی گئی لیکن ایک دوسرے کے مفادات کو تحفظ دیتے ہوئے انصاف,قانون,میرٹ کو پس پشت ڈالا گیا.آج ریاست کے 36 وکلاء نے سپریم کورٹ میں اس گھناونے عمل کے خلاف اپیل دائر کر رکھی ہے.ہم امید کرتے ہیں کہ سپریم کورٹ آئین و قانون کو محلوظ خاطر رکھتے ہوئے اس پر فیصلہ کرئے گی.ریاست کا نظام والضرام آئین و قانون کے اندر رہ کر ہی چلایا جا سکتا ہے.
ممبر قانون ساز اسمبلی سردار حسن ابراہیم نے مزیدکہا کہ کرپٹ مافیا اور حکومت ہماری اطلاعات کے مطابق سپریم کورٹ میں مداخلت کر کہ ہائی کورٹ کے فیصلہ میں توثیق کروانا چاہتے ہیں یہ مداخلت ناقابل برداشت ہے جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جائے گا.اگر ایسا کیا گیا تو اسکے خطرناک نتائج سامنے آئیں گے.جموں کشمیر پیپلز پارٹی آئین کی بالادستی اور میرٹ کی حکمرانی کے لیے اپنا جاندار کردار ادا کرئے گی اور بڑی سے بڑی قربانی سے دریغ نہیں کیا جائے گا.