مودی حکومت نے ذاکر نائیک کی اسلامک ریسرچ فائونڈیشن پر پابندی میں توسیع کردی

مودی حکومت نے معروف اسلامی مبلغ ذاکر نائیک کے ادارے ‘اسلامک ریسرچ فائونڈیشن’پر غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانو ن کے تحت عائد پابندی میںمزید پانچ برس کیلئے توسیع کردی ہے ۔کشمیرمیڈیاسروس کے مطابق 2016میں اسلامک ریسرچ فائونڈیشن کو یو اے پی اے کے کالے قانون کے تحت پانچ برس کیلئے غیر قانونی قراردیاگیا تھا ۔ فائونڈیشن پر عائد کی گئی پابندی آج بروز منگل کو ختم ہورہی تھی ۔ ذاکر نائیک نے جو ملائیشیا میں مقیم ہیں مسلسل مودی حکومت کی سخت نگرانی میں ہیں جب ان پر الزام لگایاتھا کہ جولائی 2016میں بنگلہ دیش کے دارلحکومت ڈھاکہ کے ایک ریستوان پر حملے میںملوث حملہ آوروں میں سے ایک نے ان سے متاثرہو کر یہ حملہ کیا۔تاہم ذاکرنائیک متعدد بار اس الزام کو مستردکرچکے ہیں۔ پیر کو بھارتی وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک نوٹیفکیشن میں کہاگیا ہے کہ اسلامک ریسرچ فائونڈیشن اور اس کے ارکان خصوصا ذاکر نائیک مذہب کی بنیاد پر اپنے پیروکاروں کومختلف مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان دوریاں بڑھانے کی کوششوں کو فروغ دے رہے ہیں۔