وزیراعظم پاکستان کی قانونی ٹیم سے ملاقات

وزیراعظم عمران خان کی وزیر قانون فروغ نسیم، بیرسٹر علی ظفر اور اٹارنی جنرل خالد جاوید خان سے ملاقات ہوئی ہے۔

ذرائع کے مطابق وزیراعظم کی قانونی ٹیم سے ملاقات میں کل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں پیش ہونے والے بلز پر مشاورت کی گئی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اٹارنی جنرل نے وزیراعظم کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں سابق جج رانا شمیم کیس پربریفنگ بھی دی۔

واضح رہے کہ گلگت بلتستان کے سابق چیف جج کے انکشافات پر آج اسلام آباد ہائیکورٹ نے ازخود نوٹس پر سماعت کرتے ہوئے فریقین کو شوکاز نوٹس جاری کردیئے اور 26 نومبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں کہا کہ وہ آئندہ سماعت پریہاں نہیں ہوں گے، عدالت کی اٹارنی جنرل کو نمائندہ مقررکرنے کی ہدایت کی ، چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ ہمارا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا جیسا آپ سوچ رہے ہیں، مسلسل یہ بات کی جا رہی ہے کہ کہا گیا انہیں الیکشن سے پہلے نہ چھوڑیں، کم ازکم آپ ہمارے رجسٹرارسے پوچھ لیتے۔

عدالتی نوٹس کے باوجود سابق چیف جج گلگت بلتستان رانا شمیم حاضر نہیں ہوئے، رانا شمیم کے بیٹے نے بتایا کہ اُن کے والد نیو یارک میں کانفرنس میں شرکت کرنے گئے تھے، والد صاحب رات اسلام آباد پہنچے، طبیعت ٹھیک نہیں ہے۔

رانا شمیم کے بیٹے نے کمرہ عدالت میں ویڈیو چلانے کی اجازت مانگی لیکن عدالت نے انہیں اجازت نہیں دی، ایڈیٹر انویسٹی گیشن دی نیوز انصار عباسی نے کہا کہ میری اسٹوری میں جج صاحب یا عدالت کا نام نہیں تھا ، میرا کام یہ تصدیق کرنا تھا کہ حلف نامہ اصل ہے یا نہیں ، میں نے جج صاحب سے اس کی تصدیق کی وہ اپنے اس بیان پر قائم ہیں ۔