پنجاب اسمبلی میدان جنگ میں تبدیل ہوگئی

پنجاب اسمبلی میں حکومتی اور اپوزیشن ارکان کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، ایوان میں ایک دوسرے پر شدید الزام تراشی اور نعرے بازی کی گئی۔

پنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ نون کے رکن اسمبلی ملک ارشد کے بیان پر ایوان میں ہنگامہ آرائی شروع ہو گئی، ملک ارشد نے کہا کہ پی ٹی آئی حکومت نشے پر کنٹرول نہیں کرنا چاہتی ہے۔

ملک ارشد کے بیان پر حکومتی ارکان نے ایوان میں شورشرابا اور ہنگامہ آرائی شروع کر دی، ، ایوان میں چور چور کے نعرے لگائے گئے۔

حکومتی ارکان نے اپنے لیڈر کےخلاف بولے گئے الفاط واپس لینے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ الفاظ واپس لیں ورنہ اجلاس کی کارروائی نہیں چلنے دیں گے ۔

صوبائی وزیر قانون راجہ بشارت نے ملک ارشد کو ایوان سے باہر نکالنے کا مطالبہ کردیا اور کہا کہ ملک ارشد کو باہر نکالا جائے ورنہ ہاؤس نہیں چلنے دیں گئے۔

اس موقع پر حکومتی اور اپوزیشن اراکین کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف سخت جملوں کا تبادلہ ہوا، ایوان میں ایک دوسرے پر شدید الزام تراشی اور نعرے بازی کی گئی۔

ایوان میں حکومتی رکن میاں محمودالرشید نے کہاکہ عمران خان کیخلاف زبان درازی کی گئی تو زبان گدی سے کھینچ لیں گے۔

نون لیگی رکن ملک ارشد نے کہاکہ کسی بھی ضلع میں نارکوٹکس کا کوئی دفتر نہیں ہے، حکومت ہمیں لال جھنڈی دکھا رہی ہے۔

اس پر صوبائی وزیر راجہ بشارت نے کہا کہ نون لیگ نے لڑنا ہے تو اسمبلی سے باہر آئے ان کا مقابلہ کریں گے جواب میں نون لیگ کے رانا مشہود نے کہاکہ جس نے ایوان سے باہر آ کر لڑنا ہے وہ بھی آ جائے مقابلے کیلئے تیار ہیں۔

پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی اس صورتحال کے بعد چیئرمین پیبل نے اجلاس 15 منٹ کے لیے ملتوی کر دیا۔