پاکستان کی منشا کےخلاف عالمی دنیامیں کوئی فیصلہ ممکن نہیں، صدرریاست سردارمسعود خان

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ پاکستان تمام مشکل حالات کے باوجود دنیا کی بڑی ریاستوں میں شمار ہوتا ہے جس کی مرضی و منشا کے خلاف بین الاقوامی سطح پر کوئی فیصلہ نہیں ہو سکتا ہے۔ پاکستانی اپنے آپ کو کم تر نہ سمجھیں کیوں کہ بھارت اس خطہ میں اگر کسی سے ڈرتا ہے تو وہ پاکستان ہے جس کا ثبوت یہ ہے کہ بھارت ایک طرف پاکستان کی معیشت، سیاست اور نظریاتی اساس کو کمزور کرنے کی سازشوں میں مصروف ہے اور دوسری جانب اپنی فوج کا ایک بڑا حصہ یا تو مقبوضہ کشمیر میں یا ہماری مشرقی سرحد پر تعینات کر رکھا ہے۔ اگر بھارت کو ہم سے خطرہ نہیں اور اسے ہماری فوج کا خوف نہیں تو پھر اس نے پاکستان کے ارد گرد اتنا بڑا فوجی ارتکاز کیوں کر رکھا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے جمعہ کے روز یونیورسٹی آف ہری پوری میں ہفتہ یکجہتی کشمیر کے حوالے سے طلبہ اور اساتذہ کے ایک بڑے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ تقریب سے یونیورسٹی آف ہری پور کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر انوار الحسن گیلانی، آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر کلیم عباسی و دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ صدر سردار مسعود خان نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت کمزور پاکستان سے بھی ڈرتا ہے اور پاکستان کے طاقت ور ملک بننے کے پوٹینشل سے بھی خوف زدہ ہے۔ بھارت اگر ایک ارب سے زیادہ آبادی کا ملک اور پاکستانی 22 کروڑ ہیں تو یہ اعداد و شمار کوئی معنی نہیں رکھتے اگر ہم یہ تہیہ کر لیں کہ اپنے ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی بھی حفاظت کریں گے اور نظریاتی سرحدوں پر بھی پہرا دیتے ہوئے اس کشمیر کو آزاد کرانے کی کوشش کریں گے جس کے بغیر پاکستان نامکمل ہے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام 1947 سے پاکستان سے ملنے کے لیے تاریخ کی بے مثال قربانیاں دیتے چلے آ رہے ہیں اور وہ آج کشمیری نوجوان بھی پاکستان کا جھنڈا اٹھا کر خون دے رہے ہیں اور یہی جذبہ ہم کراچی سے خیبر تک اور گوادر سے خنجراب تک پاکستانی نوجوانوں میں کشمیر کے لیے دیکھ رہے ہیں۔ انہوں نے یونیورسٹی کے طلبہ سے مخاطب ہو کر کہا کہ آپ پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ اپنی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہندوستان کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کریں اور اپنے سچے بیانیے کو پورے جذبے کے ساتھ آگے بڑھائیں۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورت حال سے طلبہ اور اساتذہ کو آگاہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ گزشتہ سات آٹھ ماہ کی قلیل مدت میں بھارت نے بیس لاکھ سے زیادہ ہندو شہریوں کو لا کر مقبوضہ کشمیر میں آباد کیا ہے تاکہ مقبوضہ ریاست کی مسلم اکثریت کو اقلیت میں تبدیل کر کے اسے ہندو اکثریتی ریاست بنا دیا جائے۔ بھارت کی ہندو انتہا پسند حکومت یہ تمام اقدامات ہندو توا یا ہندو بالا دستی کے نظریے کے تحت کر رہی ہے۔ اس لیے یہ نہایت ضروری ہے کہ ہم مقبوضہ جموں و کشمیر میں اپنے مسلمان بہن بھائیوں کو ہندوستان کی یلغار سے بچانے کے لیے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے حصے کا کردار ادا کریں۔ پاکستان کے نوجوان طلبہ ایک جانب محنت و مشقت کر کے اپنی تعلیم مکمل کریں اور پاکستان کو ایک مضبوط معاشی و فوجی قوت بنائیں اور دوسری جانب سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع کو استعمال کر کے عالمی سطح پر کشمیریوں کی آواز دنیا تک پہنچائیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں مظلومیت کا بیانیہ ترک کر کے اس عزم کا اظہار کرنا ہو گا کہ ہم نے اپنی قسمت کو بھی بدلنا ہے اور کشمیر کو بھی بھارتی غلامی سے آزاد کرانا ہے کیوں کہ کشمیر پاکستان کا پہلا دفاعی مورچہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں جہاد کے تصور پر کسی قسم کی دفاعی پوزیشن لینے یا معذرت خواہانہ رویہ اختیار کرنے کی ضرور ت نہیں کیوں کہ جہاد دنیا کا بہترین طریقہ جنگ ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے ہفتہ یکجہتی کشمیر منانے اور یونیورسٹی کے اندر کشمیر ڈیسک قائم کرنے پر جامعہ ہری پوری کے وائس چانسلر اور اساتذہ کا کشمیر کے ساتھ گہری وابستگی پر شکریہ ادا کیا۔ قبل ازیں یونیورسٹی آف ہری پور پہنچنے کے بعد صدر آزاد کشمیر نے جامعہ میں کشمیر ڈیسک کا افتتاح کیا اور آزاد جموں و کشمیر اور یونیورسٹی آف ہری پور کے درمیان باہمی تعاون کی ایک یاداشت پر دستخط کیے۔