آزادکشمیرکا آمدہ الیکشن مقبوضہ کشمیرکے مستقبل کا فیصلہ کرےگا، وزیراعظم آزادکشمیرراجہ فاروق حیدرخان

وزیراعظم آزاد جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان کی باغ آمد ‘ عوام علاقہ کی جانب سے باغ کی تاریخ کا سب سے بڑا استقبال، باغ بائی پاس روڈ سے لیکر ریڑہ تک سینکڑوں گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر مشتمل بہت بڑے جلوس کی صورت میں وزیراعظم آزاد کشمیر کو جلسہ گاہ لایا گیا، باغ شہر میں داخل ہوتے ساتھ ہی لیگی کارکنان اور عوام الناس قافلوں کی صورت میں استقبال کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر کے قافلے میں شامل ہوتے رہے اور باغ شہر کے قریب جلسہ گاہ پہنچنے سے قبل ہی وزیراعظم کا قافلہ بہت بڑے عوامی اجتماع کی شکل اختیار کر گیا، مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے نوجوانوں اہلیان باغ نے فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہوئے راجہ محمد فاروق حیدر خان کا خیرمقدم کیا،فضاءجئے فاروق حیدر ، جئے نواز شریف اور جیئے میر اکبر کے نعروں سے گونجتی رہی، دہڑے بازار میں بھی وزیر اعظم آزاد کشمیر کا پرتپاک استقبال کیا گیا اور پھولوں کی پتیاں نچھاور کی گئیں، وزیر اعظم آزاد کشمیر نے ریڑہ پل کا افتتاح کیا ، افتتاح کے لیے آنے پر شاندار آتش بازی کرکے وزیر اعظم کا خیر مقدم کیا گیا، وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان نے ٹرک پر سوار ہو کر وزیر اعظم آزاد کشمیر کے خیر مقدمی جلوس کی قیادت کی، سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق، وزیر صحت ڈاکٹر نجیب نقی بھی وزیر اعظم کے ہمراہ تھے۔جلسہ گاہ میں تل دھرنے کی جگہ نہیں بچی، لوگوں نے چھتوں پر کھڑے ہو کر وزیر اعظم آزاد کشمیر کا خطاب سنا۔
باغ جلسہ عام میں راجہ محمد فاروق حیدر خان نے عوام الناس کی جانب سے تاریخ ساز استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر پاکستان اور ہندوستان کے درمیان کھیل کا میدان نہیں،یہاں سوا کروڑ لوگ رہتے ہیں،1947 میں صرف جموں میں 2 لاکھ 37 ہزار کشمیری شہید ہوئے ،2500 کشمیری 1953 میں جب شہید ہوئے جب شیخ عبداللہ کو نکالا گیا، 1 لاکھ کشمیری تحریک آزادی میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں، 11 ہزار کشمیری ماوں بہنوں کی عصمتیں لوٹی گئیں، 22 ہزار بیوہ ہیں، سینکڑوں لاپتہ ہیں، ساڑھے چھ ہزار بے گمنام قبریں ہیں، کشمیری قیادت عقوبت خانوں میں ہے، ایسے حالات میں ہم خاموش نہیں رہ سکتے۔ ہندوستان نے کشمیر کو معاشی طور پر بدحال کر دیا ہے، عمران خان اس بات کی وضاحت کریں کہ مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل سے کیا مراد ہے؟ آیا اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے یا تقسیم کشمیر کی یا خودمختار کشمیر۔ ہمارا تعلق کسی حکومت کے ساتھ نہیں ریاست پاکستان کے ساتھ ہے، ایسے اقدامات نہ کریں جس سے آنے والی نسل پاکستان سے دور ہو جائے۔ آنا والا الیکشن انتہائی اہم ہے۔سیاست کے اندر غیرت ختم ہوتی جارہی ہے، تیرویں ترمیم سے افراتفری نہیں کھانے پینے کی دوکانیں اے ٹی ایم بند ہو گئی،الیکشن میں جانے سے قبل گزشتہ الیکشن کا منشور لیکر عوام کے پاس جائیں گے اور کارکردگی دکھائیں گے ، ختم نبوت کے سپاہی یہ جھنڈا کسی اور کو نہیں لینے دینگے، اسمبلی میں صرف مسلم لیگ ن کے اراکین تھے جب ختم نبوت پر ووٹنگ ہوئی، مذہب کے نام پر سیاست کرنے والوں کو بتا دینا چاہتا ہوں کہ ہم نے جو کام کیے کسی اور نے نہیں کیے۔ایک صاحب نے کہا کہ ختم نبوت کے قانون کی منظوری سے اس پار منفی تاثر جائیگا، ختم نبوت کے نام پر سیاست کرنے والے اس کے خلاف کام کرنے والوں کے غیر دانستہ ہاتھ مظبوط نہ کریں۔پاکستان کی سیاسی گندگی جو پی ٹی آئی نے ڈالی ہے آزادکشمیر میں نہیں لانے دینگے۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ آج ہمارا سیاسی مستقبل خطرے میں ہے ،جب تک آزاد کشمیر کا خطہ قائم ہے تو تحریک آزادی کشمیر بھی قائم رہے گی، ہم ماضی کو فراموش کرنے کا کہنے والوں کو بتا دینا چاہتے ہیں کہ اپنی ماوں بہنوں کی عصمت دری کو کیسے فراموش کریںان قربانیوں کو ،کیسے بھول جائیں ان لوگوں کو جو آج بھی سبز ہلالی پرچم میں اپنے لخت جگر کو دفناتے ہیں، یہ وقت سوچ و بچار کرنے کا ہے۔ انہوں نے کہا کہ الطاف حسین کو نیلسن مینڈیلا جیسا بڑا آدمی قرار دینے والے عمران خان کی کابینہ کے وزیر قانون نے مجھے ایک محفل میں کہا کہ’ میں آپ نے تیرہویں ترمیم ہندوستان کے ساتھ مل کر کی اور پاکستان کے 22 کروڑ عوام کے ساتھ میں نے غداری کی‘۔کیا کشمیریوں نے اس لیے قربانیاں دی تھیں؟ کیا سردار محمد ابراہیم خان ، سردار عبدالقیوم خان اور دیگر زعمائ نے ساری جدوجہد اس لیے کی تھی کہ کل ان لوگوں سے ہمیں طعنے سننے پڑیں؟ میں نے اس سے اس وقت بھی کہا تھا کہ میں تمہاری اس بات پر ماتم کروں گا۔ وزیراعظم آزادکشمیر نے کہا کہ جو لوگ کہتے ہیں کہ صوبہ بنانے سے کچھ فرق نہیں پڑتا ان کو یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ سردار عبدالقیوم خان نے کہا تھا کہ ” آزاد کشمیر کی آبادی پاکستان کے کئی اضلاع سے کم ہے حکومت پاکستان کو یہ اختیار کس نے دیا کہ وہ کشمیر کی تقسیم کرے”۔ وزیر اعظم آزاد کشمیر نے کہا کہ سردار ابراہیم کو برابھلا کہنے والے اپنی شکل دیکھیں، ایک ہی لاٹھی سے سب کو نہ ہانکا جائے، مجھے افسوس ہے کہ اتنی بڑی بات ہوئی مگر اہلیان پونچھ کی جانب سے کوئی ردعمل نہیں آیا، مجھ پر بات کی جا سکتی ہے، سردار عتیق پر کریں ، چوہدری لطیف اکبر پر کریں بیرسٹر سلطان پر کریں مگر اگر ہمارے زعمائ پر اگر کوئی بات کرے گا تو انتہائی قابل افسوس بات ہے۔انہوں نے کہا کہ بطور وزیر اعظم اللہ رب کریم کے خصوصی فضل کرم سے اپنا ہدف پورا کیا، میرٹ کا نظام لایا غریبوں اور مستحق لوگوں کو انکا حق دیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کشمیر کے عزت و وقار کی لڑائی کر رہا ہوں’میری حمایت نہ کریں اپنی اور اپنے تشخص کی کریں۔ انہوں نے کہا کہ میرے والد محترم نے ایوب خان کو کاغذی فیلڈ مارشل کہا تھا جس پر انہیں ایبڈو کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ آزاد کے انتخابات فری اینڈ فئیر ہوں گے، الیکشن شیڈول کے اعلان تک نہیں بلکہ اگلے وزیراعظم کے حلف تک وزیر اعظم ہوں اس حوالے سے کسی کو غلط فہمی نہیں ہونی چاہئیے، کسی کو دھاندلی نہیں کرنے دینگے۔وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہاکہ پیسے سے اگر عوام کو خریدنا کے تو پھر مودی کے پاس بھی زیادہ پیسے ہیں، آزاد کشمیر میں جمہوریت ایک جدوجہد کے بعد معرض وجود میں آئی، پچاس کی دہائی میں ملٹری ایکشن بھی ہوا تھا جس کے بعد یہاں جمہوری نظام نافذ کرنے کا فیصلہ ہوا، یحیحی خان نے ون مین ون ووٹ کا تصور دیا ، بدقسمتی سے ملک میں تقسیم ہے اور مدلل بات نہیں کی جارہی۔ انہوں نے کہا کہ میر اکبر خان کو مبارکباد پیش کرتا ہوں انہوں نے اپنا حق ادا کر دیا، ضلع باغ کی تینوں سیٹیں مسلم لیگ ن نے جتنی ہیں اس کے لیے کارکنان نے محنت کرنی ہے۔انہوں نے کہا کہ کونسل کے الیکشن میں باغ کو باغ باغ کرینگے۔انہوں نے کہا کہ عمران خان میری لیڈرشپ کے بارے میں بیان دیں گے تو میں بھی دونگا،مسلم لیگ ن آزادکشمیر کی سب سے بڑی سیاسی قوت برساتی نالوں سے کوئی فرق نہیں پڑتا، اللہ کے فضل کے ساتھ آئندہ الیکشن میں بھرپور کامیابی حاصل کر کہ دوبارہ حکومت بنائیں گے، ریڑہ کو سب ڈویثرن بنائیں گے، بائی پاس روڈ کی تعمیرکرینگے ٹورزم کوریڈور پر بھی عملدرآمد کرینگے۔انہوں۔نے کہا کہ آزادکشمیر کے اندر اور مہاجرین میں تمام حلقوں سے امیدوار کھڑے کرینگے۔انہوں نے کہا کہ سکندر حیات خان کے بیٹے سے میں نے خود مستعفی ہونے کو کہا وہ قابل احترام بیٹے کو باپ کے مقابل کھڑا نہیں کرنا چاہتے۔ وزیر اعظم آزادکشمیر نے کہا کہ باغ کے لوگوں کا پرتپاک استقبال پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔ باغ سے سردار شمس خان، سردار عبدالقیو م، سید حسن گردیزی، محمد حسین دھڑے، میجر ایوب جیسے عظیم لوگ گزرے ہیں، اپنا اعمال نامہ لے کر عوام کے پاس جار ہے ہیں۔ آئندہ بجٹ بھی ہماری حکومت پیش کرے گی۔ آزادکشمیر میں ترقی اور خوشحالی کا کریڈٹ محمد نواز شریف کو جاتا ہے۔ 5سالوں میں مختلف منصوبہ جات پر 9ارب روپے ضلع باغ میں خرچ کیے۔ ایک ایک منصوبے کی تفصیلات شیئر کرینگے۔ ایک منظم طریقہ سے پہلی مرتبہ ریاست میں ترقی کی بنیاد رکھی اور اس پالیسی پر عمل کیا۔تعلیم،صحت،انفراسٹرکچر میں بہتری لائی۔ن لیگ کے کارکنان کا شکر گزار ہوں جنہوں نے قربانیاں دی ورنہ ماضی کی طرح چلتا تو یہاں بھی سیاسی تقرریاں بھی ہوتیں۔NTSاور پی ایس سی کا فائدہ آنے والی نسلوں کو ہوگا۔ تمام ضلعی ہیڈکوارٹر ہسپتالوں میں فری ایمرجنسی سروسز کی فراہم کیں۔ 5 سالہ ترقیاتی سفر پر کسی کو ڈاکہ نہیں مارنے دیں گے اس سفر کو جاری رکھنے کے لیے مسلم لیگ ن کی دوبارہ کامیابی ضروری ہے۔وزیر اعظم آزاد کشمیر نے اس موقع پر عوام علاقہ دہڑے کے لیے پل دینے کا بھی اعلان کیا۔
جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے سپیکر اسمبلی شاہ غلام قادر نے کہا ہے کہ جو لوگ اس انتظار میں تھے کہ مسلم لیگ ن ٹوٹے گی اور وہ حکومت بنائیں گے انہیں مایوسی ہوئی ۔ آج راجہ محمد فاروق حیدر خان کی قیادت میں مسلم لیگ ن متحدہے۔ نیلم اور باغ میں چھاتہ بردار ہیلی کاپٹر بردار آرہے ہیں ،نیلم میں پیدل جانا پڑتا ہے۔ہم چینی چوروں کے ساتھ نہیں ، پاکستان میں نواز شریف کی حکومت میں آٹے اور چینی کا بھاﺅ پتہ کر لیں او رآج دیکھیں پاکستان بھر میں جو حالات ہیں وہ سب کے سامنے ہے ۔ آئندہ الیکشن میں مسلم لیگ ن آزادکشمیر میں سب سے بڑی جماعت ایک مرتبہ پھر جیتے گی۔ پی پی پی سب سے آخر میں ہے۔ ایک جماعت اتحاد کے لیے بے چین ہے اور اسی چکر میںاپنی بچی کھچی ساکھ بھی بھلا بیٹھی ۔ پیپلز پارٹی آزادکشمیر کے اندر مسلم کانفرنس سے بھی پیچھے جائے گی۔ باغ کے اندر مسلم لیگ ن ناقابل تسخیر رہے گی۔ آئندہ انتخابات متحد ہو کر رب العزت کی تائید و نصرت کے ساتھ لڑیں گے ۔
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے سینئر وزیر چوہدری طارق فاروق نے کہا کہ آج آزاد کشمیر کو راجہ فاروق حیدر خان جیسے نڈردلیر اور باوقار لیڈر کی ضرورت ہے، آزاد کشمیر میں مسلم لیگ ن کا سورج عوام کی تائید و حمایت سے طلوع ہوا تھا جو اللہ کے فضل سے نہیں ڈوبے گا، مشرق روشنی کا مینار ہے جب اندھیرا تھا تو اس وقت شرقی باغ نے پاکستان مسلم لیگ ن کے لیے دروازے کھولے، آج اللہ کے فضل و کرم سے آزاد کشمیر بھر اور پاکستان میں میاں نواز شریف اور مسلم لیگ ن کا پرچم سر بلند ہے۔ ہم سب استقامت کے ساتھ مسلم لیگ ن اور محمد نواز شریف کے ساتھ کھڑے ہیں اور رہیں گے،ہمیں کوئی لالچ اور دباو آگے پیچھے نہیں کر سکا۔ انہوں نے کہا کہ مقام عبرت ہے کہ ستاروں پر کمند ڈالنے کہ بات کرنے والے آج اپنی پنا ہ گاہیں تلاش کررہے ہیں، جو کہتے تھے حکومت ہمارے گھروں سے ہوکر گزرتی تھی آج کہاں ہیں،میاں نواز شریف نے ہمیں جماعت دی نظریہ دیا آج اللہ کے فضل و کرم سے یہ نظریہ گونج رہا ہے اور یہ نظریہ ووٹ کو عزت دو کا ہے۔ سردار میر اکبر خان نے باغ میں رہ کر اہلیان باغ کہ خدمت کی ہے۔انہوں نے کہا کہ استقامت جرات کے ساتھ ن لیگ مدت پوری کررہی ہے، نقب ذنی کی کوششیں ہوئیں ن لیگی کارکنوں کو کریڈٹ جاتا ہے کہ سب کو باندھ کر رکھا اللہ کے فضل و کرم سے ن لیگ متحد ہے اللہ کی کتاب کو گواہ بنا کر حلف دیا ہے کہ سبز ہلالی پرچم بلند رکھیں گے۔
جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیر جنگلات سردار میر اکبر خان نے کہا کہ وزیراعظم آزادکشمیر کو سلام پیش کرتا ہوں جنہوں نے شرقی باغ کی تعمیر و ترقی میں فراخ دلی کا مظاہرہ کیا، راجہ فاروق حیدر خان کی غیرت عزت اور جرات کی وجہ سے پورے کشمیر کا سر فخر سے بلند ہے، کشمیر میں بڑے بڑے لوگ آے مگر پاکستان کے حکمرانوں کے آگے اپنے اقتدار کی خاطر گر گئے تھے مگر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے دلیری کے ساتھ بات کی، کشمیر کونسل جس کے ماتحت ہمارے سیاستدان ہوتے تھے اس ہری سنگھ سے فاروق حیدر خان نے جان چھڑائی، ہمارے ملازمین تنخواہیں نا ملنے پر رل رہے تھے آج آزاد کشمیر معاشی طور پر خود کفیل ہے، اپنے لوگوں کے حقوق کے لیے کھل کر آواز اٹھائی ۔ انہوں نے کہا کہ وسطی سے نوٹ کما کر شرقی سے ووٹ مانگنا شرم کی بات ہے ان لوگوں کے لیے جو یہاں لڑنے کے لیے آرہے۔ جب پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اس وقت قمر زمان شرقی باغ کو چھوڑ کر وسطی میں گئے ،میں نہیں لوگ کہتے ہیں کہ 40 کروڑ روپے لیکر بیٹے کو وسطی باغ سے اور خود شرقی باغ سے سے الیکشن لڑ رہا ہے، شرقی والے بھیڑ بکری نہیں جو آئے اس کو ووٹ دیدیں ،مجھے ووٹ نہیں تو کسی اور شرقی والے کو دیں گے مگر باہر سے آنے والے کسی کو نہیں دینگے۔انہوں نے کہا کہ اپنے گھر میں لوگ ضمانت ضبط کروا کر یہاں آتے ہیں، کبھی غازی آباد میں کوئی پریشان ہوتا ہے تو وہ بھی شرقی کی طرف دیکھتا ہے ہم بانجھ نہیں۔ جو ووٹ پڑے تھے وہ بکسے لیکر مونچھوں والوں کے پاس چلا گیا پیسے لے آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہر دفعہ الیکشن جیت کر وزیراعظم بننے کا نعرہ لگانے والے کا حال سب جانتے ہیں، حلقے کے لوگوں پر فخر کرتا ہوں مشکل ترین حالات میں بھی مجھے مایوس نہیں کیا۔موجودہ دور حکومت میں راجہ فاروق حیدر خان کی قیادت میں جو تعمیر ترقی ہوئی ماضی میں اس کی مثال نہیں ملتی۔آج اہلیان باغ سے راجہ محمد فاروق حیدرخان کا تاریخی استقبال کر کے ان سے اپنی محبت کا ثبوت دیا ہے۔