محتسب آزادجموں وکشمیر چوہدری محمد نسیم ایڈووکیٹ کی صدرریاست سے ملاقات

صدر آزاد جموں وکشمیر سردار مسعود خان نے عام آدمی کو سستا اور فوری انصاف مہیا کرنے اور عوام کے حقوق کی تحفظ کو یقینی بنانے پر محتسب کے ادارے کے کردار کی تعریف کرتے ہوئے اس توقع کا اظہار کیا کہ یہ ادارہ اپنے فیصلہ جات اور ان پر موثر عملدرآمد کے ذریعے آزاد ریاست میں عوام کو ریلیف مہیا کرنے اور گورننس کے نظام کومزید بہتر بنانے کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔ یہ بات انہوں نے محتسب آزادجموں وکشمیر چوہدری محمد نسیم ایڈووکیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہی جنہوں نے بدھ کے روز کشمیر ہاؤس اسلام آباد میں صدر ریاست سے ملاقات کی اور انہیں اپنے ادارے کی سال2020کی رپورٹ پیش کی۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ محتسب کے ادارے کے قیام کا بنیادی مقصد ہی یہی ہے کہ شکایت کنندگان کی شکایات کی مکمل تحقیقات کے بعد انہیں انصاف فراہم کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ آزاد ریاست میں محتسب کا ادارہ حکومت اور عوام کی توقعات کے مطابق کام کر رہا ہے جس پر محتسب اور اُن کی پوری ٹیم مبارکباد کی مستحق ہے۔ اپنی سالانہ رپورٹ 2020میں محتسب نے بتایا کہ گزشتہ سال کرونا وباء کے دوران جزوی اور مکمل لاک ڈاؤن کے باعث دوسرے اداروں کی طرح محتسب سیکرٹریٹ کی کاکردگی پر بھی منفی اثرات مرتب ہوئے جس کی وجہ سے شکایات کی موصولی اور ان پر عملدرآمد کی رفتار سست رہی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ سال2020کے اختتام پر 189شکایات موصول ہونے کے بعد زیر کار مجموعی شکایات کی تعداد441ہو گئی ہے اور اس طرح محتسب کے شعبہ رجسٹری میں کل 39اور تحقیقاتی شعبہ جات میں 213شکایات زیر کار ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ محتسب سیکرٹریٹ کو موصول ہونے والی شکایات میں محکمہ تعلیم، بورڈ آف ریونیو، محکمہ برقیات، محکمہ تعمیرات عامہ اور لوکل گورنمنٹ شامل ہیں۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا کہ محتسب سیکرٹریٹ کے اداروں کو ضلع مظفرآباد سے 36، ضلع بھمبر سے 35، ضلع کوٹلی سے 23اور ضلع پونچھ سے 29شکایات موصول ہوئیں جبکہ آزادکشمیر کے دیگر اضلاع اور بیرون آزادکشمیر سے بھی لوگوں نے انصاف کے حصول اور داد رسی کے لئے محتسب کے ادارہ سے رجوع کیا ہے۔ اسی طرح گزشتہ سال 107شکایات پر مفصل تحقیقات کے بعد فیصلہ جات جاری کیے گے جن میں سے 63شکایات پر تحقیقات کے بعد شکایت کنندگان کو داد رسی دی گئی اور 76شکایات کے فیصلہ جات پر عملدرآمد کرایا گیا۔ محتسب آزادکشمیر چوہدری محمد نسیم ایڈووکیٹ نے صدر آزادجموں وکشمیر سردار مسعود خان کو بتایا کہ 2005کے زلزلہ کے بعد محتسب سیکرٹریٹ کا شعبہ رجسٹری اور شعبہ ریکارڈ شلٹرز میں کام کر رہا ہے اور پندرہ سال کا عرصہ گزرنے کے بعد ان شلٹرز کی حالت نہایت ناگفتہ بہ ہو چکی ہے اس لئے یہ ضروری ہے کہ محتسب سیکرٹریٹ کو مکانیت ترجیح بنیادوں پر فراہم کی جائے۔ محتسب نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ میرپور اور پونچھ ڈویژن کی سطح پر محتسب سیکرٹریٹ کے علاقائی دفاتر قائم کیے جائیں تاکہ عوام کو اپنے گھروں کے قریب داد رسی مل سکے اور انہیں انصاف کے حصول کے لئے در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑیں۔ انہوں نے یہ بھی مطالبہ کیا کہ محتسب سیکرٹریٹ کو مہیا کی گئی 1992ماڈل کی پانچ گاڑیوں کی جگہ بہتر گاڑیاں مہیا کی جائیں تاکہ پرانی گاڑیوں پر اُٹھنے والے بے پناہ اخراجات کو کم کیا جا سکے۔ رپورٹ میں مختلف محکمہ جات کے خلاف آزادکشمیر کے مختلف اضلاع سے درج کرائی گئی شکایات کی نوعیت اور ان کے اژالے کے لئے کی جانے والی کوششوں اور فیصلہ جات کی چیدہ چیدہ تفصیلات سے بھی صدر ریاست کو آگاہ کیا گیاکہ محتسب کی کوششوں سے ضلع بھمبر میں خواتین کے لئے محکمہ تعلیم کی ملازمتوں میں مختص علاقائی کوٹہ پر مکمل عملدرآمد کرایا گیاجبکہ کئی غریب، بے سہارا سائلین کو میرٹ کی بنیاد پر ملازمتوں سے محروم کرنے کی کوششوں کی حوصلہ شکنی کرتے ہوئے انہیں انصاف مہیا کیا گیاجبکہ زہرہ بی بی دختر سید محمد خان کی شکایت پر فوری کارروائی کرتے ہوئے سائلہ کو بطور عربی معلمہ میرٹ کی بنیاد پر تعینات کیے جانے کے بارے میں فیصلہ کیا اور اس پر عملدرآمدکرایا۔صدر آزادکشمیر نے محتسب چوہدری محمد نسیم ایڈووکیٹ کو یقین دلایا کہ محتسب آزادکشمیر کی کارکردگی کو مزید بہتر بنانے کے لئے ہر قسم کا تعاون فراہم کیا جائے گا اور ادارے کے دیرینہ جائز مطالبات کو بھی حل کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی محتسب سیکرٹریٹ کی طرز پر ریفارمز ایکٹ کو آزادکشمیر میں نافذ کرنے کے لئے قانون سازی اور خواتین کو وراثتی حقوق کی تحفظ کے لئے قانون سازی پر بھی غور کیا جائے گا۔ صدر آزادکشمیر نے کہا کہ محتسب سیکرٹریٹ کے لئے مکانیت اور ٹرانسپورٹ کی فراہمی کے جائز دیرینہ مطالبات کو جلد از جلد پورا کرنے کے لئے اقدامات کیے جائیں گے۔