بھارت کی انتہا پسند جماعتیں مسلمانوں کو تشدد کا نشانہ بنارہی ہیں، صدرریاست سردار مسعود

آزاد جموں وکشمیر کے صدر سردار مسعودخان نے کہا ہے کہ دنیا کو جنگوں اور تنازعات سے بچانے کیلئے بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دے کر دنیا میں مختلف تہذیبوں اور مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان امن اور ایک دوسرے کو برداشت کرنے کا ماحول پیدا کرنا ناگزیر ہے۔ بھارت کی بی جے پی اور آرایس ایس کی انتہاء پسند سرکار مسلمانوں اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو مظالم کا نشانہ بنا رہی ہے کیونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ہندوستان صرف ہندوؤں کا ملک ہے جہاں کسی اور مذہب کے ماننے والوں کو رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ”جرائم کو روکنے میں مذہبی رہنماؤں کے کردار“ کے موضوع پر ایک ورچوئیل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا جس کا اہتمام یونیورسل پیس فاؤنڈیشن، انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف پارلیمنٹرین فار پیس اور ویانا آسٹریا میں قائم ایل آئی او ایس سائل نامی تنظیم نے مشترکہ طور پر کیا تھا۔ عالمی پیس اور بین المذاہب ہم آہنگی کے علمبردار ڈاکٹر محمد افسر راٹھور کی میزبانی میں ہونے والی اس کانفرنس سے صدر ریاست کے علاوہ پاکستان کی وزارت مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی کی پارلیمانی سیکرٹری محترمہ شنیلہ رتھ، پنجاب کے وزیر زراعت سید حسین جہانیاں گردیزی، وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق کے پارلیمانی سیکرٹری لال چند ملہی، لاہور کے آرچ بشپ، سبسٹین فرانسیس شا، ریمیش سنگھ ارورہ ممبر پنجاب اسمبلی اور دیگر مقررین نے بھی خطاب کیا۔ اپنے خطاب میں صدر آزادکشمیر سردار مسعودخان نے کہا کہ وسطی افریقہ، میانمار، فلسطین اور بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں مذہب کی بنیاد پر امتیاز واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے اور یہ امتیاز ہی درحقیقت ان علاقوں میں تنازعات کی بنیادی وجہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں وکشمیر میں مسلمانوں کو مذہبی بنیاد پر نہ صرف بدترین ریاستی تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے بلکہ ایسے قوانین بھی بنائے گے ہیں جن کا ہدف وہاں کے مسلمان ہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں مسلمان اپنا پیدائشی اور جائز حق خودارادیت مانگنے پر بھی بدترین ظلم کانشانہ بنائے جا رہے ہیں۔ صدر سردار مسعودخان نے اقوام متحدہ کے ادارہ الائنس آف سول لائزیشن اور کنگ عبداللہ بن عبدالعزیز انٹرنیشنل سنٹر کا بین المذاہب ہم آہنگی کو فروغ دینے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہاکہ امن، بین المذاہب ہم آہنگی اور برداشت کے کلچر کو فروغ دینا پوری دنیا کی اجتماعی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ بین المذاہب ہم آہنگی مذاہب کے درمیان نہیں بلکہ مذاہب کے ماننے والوں کے درمیان ہونی چاہیے اور دنیا کو مختلف مذاہب اور اُن کے ماننے والوں کو ایک حقیقت کے طور پر تسلیم کرنا ہو گا اور یہ مقصد حاصل کرنا صرف مذہبی رہنماؤں کی ذمہ داری نہیں بلکہ انسانی معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغربی رہنماؤں کو اسلامو فوبیا کے بجائے ایک دوسرے کے مذاہب کی بنیادوں کو سمجھنا ہو گا اور اسی طرح ترقی پذیر ممالک میں اقلیتوں کی عددی تعداد سے قطع نظر اُن کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی اور بین الاقوامی سطح پر جواب دہی کے کلچر کو بھی فروغ دینا ہوگا۔
٭٭٭