صدرریاست کی مقبوضہ کشمیرمیں بھارتی بربریت کی مذمت

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض فوج کے ہاتھوں تین نوجوانوں کے بہیمانہ قتل، شہریوں کے گھروں کو بارودی مواد سے اڑانے اور ان ظالمانہ اقدامات کے خلاف صدائے احتجاج بلند کرنے والوں کے خلاف طاقت کے بے دریغ استعمال کو انتہائی افسوس ناک قرار دیتے ہوئے اسکی شدید مذمت کی اور بھارتی حکومت سے کہا کہ وہ مقبوضہ کشمیر کے زمین حقائق سے نظریں چرانے کے بجائے ان حقائق کا ادراک کرتے ہوئے درندگی کی پالیسی ترک کر کے تنازعہ کشمیر کا ایسا حل تلاش کرے جو کشمیریوں کی امنگوں کے مطابق ہو۔ مقبوضہ کشمیر کے ضلع پلوامہ میں گھر گھر تلاشیوں کے دوران جعلی مقابلے میں علاقے کے تین نوجوانوں کی شہادت اور اسی علاقے میں شہریوں کے گھروں کو بارودی مواد سے تباہ کرنے کے حوالے سے اپنے ایک مذمتی بیان میں صدر نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں پانچ اگست 2019 کے روز جو اقدامات شروع کیے تھے ان میں کمی آنے کے بجائے روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دہلی کے حکمران بات چیت اور مذاکرات کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کے بجائے فوجی طاقت سے کشمیر کو اپنے قبضہ میں رکھنے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ بھارت کی طاقت کے استعمال کی پالیسی سے مقبوضہ ریاست میں حالات انتہائی سنگین ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر نوجوانوں کو جعلی مقابلوں میں دہشت گردی قرار دیکر قتل کیا جا رہا ہے، خواتین کے خلاف جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے، بھارت کے ہندو شہریوں کو لا کر متنازعہ ریاست میں غیر قانونی طور پر آباد کیا جا رہا ہے، صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد کو تشدد کا نشانہ بنا کر اظہار رائے کی آزادی کو مکمل طور پر مسدود اور محدود کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کے حکمرانوں کو یہ جان لینا چاہیے کہ ان کے ظالمانہ، وحشیانہ اور غیر انسانی اقدامات کا پہلے کوئی نتیجہ نکلا اور نہ ہی آئندہ نکلے گا۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کی تحریک کا اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے کل بھی پر عزم تھے اور ان کے پائے استقلال میں آج بھی کوئی لغزش نہیں ہے۔ اس لیے بھارت کے لیے دانش مندی کا راستہ یہ ہے کہ وہ کشمیریوں کی خواہشات اور احساسات کے مطابق مسئلہ کشمیر کو حل کر کے خطہ میں امن و سلامتی کو یقینی بنائے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی فوج کے ظلم و بربریت کے واقعات میں اضافہ پر اظہار خیال کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر سے موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق بھارتی فوج کے محاصرے اور تلاشی کے نام پر ہونے والے آپریشنز میں خواتین اور بچے بھی محفوظ نہیں جن کا عسکریت اور مسلح جدوجہد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کی قیادت میں قائم فسطائی حکومت کی بے رحمانہ اور جابرانہ پالیسی عالمی برادری کے لیے ایک کھلا چیلنج جس کا بین الاقوامی سطح پر نوٹس لیا جانا چاہیے۔