ریاست کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے مذہبی معاملات میں محتاط اندازاپنا تا ہوں، وزیراعظم آزادکشمیر

وزیراعظم آزاد حکومت ریاست جموں وکشمیر راجہ محمد فاروق حیدر خان نے کہا ہے کہ علماء کرا م نے کرونا وباء کے دوران لوگوں کی موثر انداز میں رہنمائی کی جس کی وجہ سے ہم نے کرونا وباء پر قابو پایا۔ اب کرونا کی تیسری لہر شروع ہو چکی ہے جو پہلے سے زیادہ خطر ناک ہے۔ علماء کرام سے اپیل ہے کہ وہ اب کی بار بھی پہلے کی طرح لوگوں کی رہنمائی کریں اور انہیں  ایس او پیز پر عملدرآمد کے حوالے سے ترغیب دیں۔ رمضان المبارک کے با برکت مہینے میں لوگوں کو عبادت کے دوران ماسک کے استعمال، سماجی فاصلے اور دیگر حفاظتی اقدامات کی تلقین کی جائے۔ ریاست کے چیف ایگزیکٹو کی حیثیت سے مذہبی معاملات میں محتاط اندازاپنا تا ہوں اور ہر مذہبی معاملے میں علماء کرام کی رائے اور تجاویز کو مقدم رکھتا ہوں۔ علماء سے بہتر معاشرے کی کوئی رہنمائی نہیں کر سکتا۔ علماء کرام لوگوں کو مساجد کے علاوہ بھی دیگر مقامات پر غیر ضروری رش سے اجتناب کرنے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کے حوالے سے آگاہی فراہم کریں۔وقف املاک کے حوالے سے علماء کرام کی رائے اور تجاویز کو سامنے رکھتے ہوئے ان کی مشاورت سے قانون سازی کریں گے۔ علماء کرام کے جملہ مسائل حل کریں گے۔ ہمارے علماء کرام نے ہمیشہ ذمہ داری کا مظاہرہ کیا اور حکومت کی درست سمت میں رہنمائی کی۔ حکومت نے یتیموں اور بیواؤں کے لیے خصوصی فنڈ قائم کیا ہے۔ نادرا سے ایسے افراد کا ڈیٹا لیں گے اس حوالہ سے جو شرعی تعریف میں آتے ہوں گے اور ان کو مہینے کے آخر میں خو د بخود رقم مل جائے گی۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز یہاں وزیراعظم سیکرٹریٹ میں علماء کرام کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر چیف سیکرٹری آزادکشمیر ڈاکٹر شہزاد خان بنگش،پرنسپل سیکرٹری احسان خالد کیانی، چیئرمین مرکزی زکوٰۃ کونسل صاحبزادہ محمد سلیم چشتی، سیکرٹری اوقاف سردار جاوید ایوب اور تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علماء کرام نے شرکت کی۔ اس موقع پر علماء کرام نے اپنی اپنی تجاویز دیں اور کرونا وائرس سے نجات کے حوالے سے دعا بھی کروائی گئی۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزادکشمیر راجہ محمد فاروق حیدرخان نے کہا کہ علماء کرام کا شکر گزار ہوں جنہوں نے نبی کریم ﷺکے احکامات کی روشنی میں کرونا کے حوالے سے لوگوں کی درست سمت میں رہنمائی کی اور حکومت کی جانب سے جاری کردہ  پر عملدرآمد کروانے میں اپنا مثبت کردار ادا کیا۔ وبا ء منجانب اللہ ہوتی ہے، ہم اس سے لڑ نہیں سکتے بلکہ احتیاطی تدابیر اپناتے ہوئے اللہ تعالیٰ سے نجات کی دعا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی تدابیر ہی اس کا واحد حل ہے۔کورونا ویکسین دو ڈوز میں لگائی جاتی ہے اس کے بعد بھی قوت مدافعت بڑھانے میں وقت درکار ہوتا ہے لیکن احتیاط بنیادی حل ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب حکومت نے نرمی کی تو لوگوں نے دوبارہ بے احتیاطی شروع کی دی جس کی وجہ سے وباء نے دوبارہ سر اٹھا لیا۔ علماء کرام چونکہ ممبر رسول پر متمکن ہوتے ہیں اس لیے ان کی بات میں زیادہ اثر ہوتا ہے۔ علماء کرام لوگوں کی رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت طبی ماہرین کی رائے سب سے مقدم ہے اور شریعت میں بھی بیماری کے عالم میں طبی ماہرین کی رائے کو مقدم رکھے جانے کے واضع احکامات ہیں۔ انہوں نے کہاکہ وزیر اعظم ہاوس کے دروازے ہر خاص و عام کے لیے ہمہ وقت کھلے ہیں۔لیکن صرف دفتری نظم وضبط کے لیے بعض اوقات لوگوں کو تکلیف اٹھانی پڑتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے ریاست کے اندر میرٹ قائم کیا۔  کے ذریعے اساتذہ کی بھرتی کا طریقہ کار وضع کیا اور لوگوں کی ڈیمانڈ پر انٹرویو کے نمبرات 10 سے کم کر کے 05 کیے تاکہ کسی کے ساتھ زیادتی نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ علماء کرام آمد ہ جمعۃ المبارک کو رمضان المبارک کے حوالے سے  سے لوگوں کو آگاہ کریں اور استغفار کا بھی اہتمام کریں۔ حکومت بھی جلد اجتماعی استغفار کا اہتمام کرے گی۔