بھارت کے ساتھ بات چیت میں جموں و کشمیر کے مسئلہ کے حل کو اولیت حاصل ہونی چاہیے، صدرسردارمحمدمسعودخان

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ بات چیت میں جموں و کشمیر کے مسئلہ کے حل کو اولیت حاصل ہونی چاہیے کیونکہ اس تنازعہ کو حل کیئے بغیر دہلی کے ساتھ تعلقات بہتر ہو سکتے ہیں اور نہ خطہ میں امن قائم ہو سکتا ہے۔ ایوان صدر مظفرآباد میں ایک نیوز ویب پورٹل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے عوام امن چاہتے ہیں اور مسائل کو بات چیت کے ذریعے پر امن طور پر حل کرنے پر یقین رکھتے ہیں لیکن اس کا یہ ہر گز مطلب نہیں کہ وہ خطہ میں امن و استحکام کیلئے اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کا سودا کر لیں۔ انہوں نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے جو تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے قابل قبول ہو سکتا ہے اور وہ حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق آزادانہ اور غیر جانبدارانہ رائے شماری کے ذریعے کشمیری عوام کو اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق دینا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں میں بھی تنازعہ کا یہی حل تجویز کیا گیا ہے اور خود جموں و کشمیر کے عوام بھی گزشتہ سات دہائیوں سے اسی اصول کے تحت اپنے مستقبل کا حق مانگ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر بھارت کا یہ خیال ہے کہ وہ اسٹیٹس کو کو برقرار رکھتے ہوئے بات چیت کے عمل کو آگے بڑھائے تو یہ اس کی خام خیالی ہے کیونکہ جموں و کشمیر کے عوام اسٹیٹس کو کے لیے بلکہ آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے جدو جہد کر رہے ہیں اگر انہوں نے اسٹیٹس کو کو قبول کرنا ہوتا تو وہ اتنی قربانیاں کیوں دیتے۔ بھارت 5 اگست 2019 کے اپنے غیر قانونی اقدام سے ایک انچ بھی پیچھے ہٹنے کے لیے تیار نہیں ہے اور پاکستان اور جموں و کشمیر کے عوام کسی اسٹیٹس کو برقرار رکھنے کے لیے بھارت کے ساتھ بات چیت کرنے میں کیسے دلچسپی رکھ سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نہ صرف پاکستان کے خلاف جارحانہ عزائم رکھتا ہے بلکہ اس ملک کی تاریخ گواہ ہے کہ اس کے کسی بھی ہمسایہ ملک کے ساتھ اچھے روابط نہیں ہیں۔ انہوں نے کہ کہا کہ بھارت کو جمہوری سیکولر ملک تصور کرنا بھی درست نہیں کیوں کہ یہ ملک کانگریسی دور اقتدار میں حقیقی طور پر کبھی بھی جمہوری سیکولر ملک نہیں تھا۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ اب وزیراعظم نریندر مودی کی سربراہی میں قائم حکومت ہندو توا کے نظریہ کے تحت خطہ میں اکھنڈ بھارت بنانے کے خواب دیکھ رہی ہے اور پاکستان کے پالیسی ساز اداروں کو اس بات سے کبھی صرف نہیں کرنا چاہیے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر کی صور تحال کا تذکرہ کرتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارتی ریاست مقبوضہ کشمیر میں اپنے قوانین کا کلی طور پر ناجائز استعمال کر رہی۔ سوال یہ نہیں بھارت مقبوضہ کشمیر میں کس قانون کو درست اور کس قانون کو غلط استعمال کر رہا ہے اصل حقیقت یہ ہے کہ بھارت کو مقبوضہ ریاست میں کسی قسم کا قانون نافذ کرنے کا اختیار ہی نہیں ہے کیونکہ نہ تو کشمیر بھارتی ریاست کا حصہ ہے اور نہ ہی بھارت کو کشمیر میں اپنی عملداری قائم کرنے یا قائم رکھنے کا کوئی اختیار ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے غیر قانونی سرگرمیوں کے انسداد کا ایکٹ، آرمڈ فورسز اسپیشل پاورایکٹ اور پبلک سیفٹی ایکٹ جیسے قوانین نافذ کرنے کا کوئی حق و اختیار نہیں ہے