لائن آف کنٹرول پر فائر بندی،پاک بھارت کشیدگی میں کمی کا باعث بنی ہے، صدرریاست سردارمحمدمسعودخان

آزاد جموں و کشمیر کے صدر سردار مسعود خان نے کہا ہے کہ لائن آف کنٹرول پر فائر بندی اور پاکستان اور بھارت کے مابین کشیدگی کم ہونے سے مسئلہ کشمیر حل ہو گا اور نہ ہی خطہ میں امن آئے گا۔ امن لانے کے لیے ضروری ہے کہ بھارت کشمیریوں کے گلے کاٹنے کا سلسلہ بند کرے اور انہیں ان کا بنیادی حق حق خود ارادیت دینے کے لیے فیصلہ کن اقدامات کرے۔ کشمیر کے بارے میں جو فیصلہ کرنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ کشمیریوں سے مشاورت کی جائے اور انہیں اعتماد میں لیا جائے کیوں کہ کشمیریوں سے زیادہ پاکستان کا کوئی اور مخلص نہیں ہو سکتا۔ پاکستان کے ایک پرائیویٹ ٹیلی ویژن چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ بھارت کی حکمران جماعت بی جے پی نے 2014کے انتخابی منشور میں بھارتی آئین کے دفعہ 370 ختم کرنے، 2019 کے انتخابی منشور میں دفعہ35-A ختم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور یہ دونوں دفعات ختم کر کے مودی کی جماعت نے اپنا وعدہ پورا کر دیا ہے۔ اب وہ اگلا الیکشن مقبوضہ کشمیر پر یلغار کر کے اس کے حصے بخرے کرنے اور انہیں بھارت میں ضم کرنے کو اپنی کارکردگی بنا کر پیش کرنے کی بنیاد پر لڑے گی۔ اس لیے ہمیں بھارت کی قیادت مذاکرات کے ذریعہ مسئلہ کشمیر حل کرنے میں مخلص نظر نہیں آتی۔ صدر سردار مسعود خان نے کہا کہ دفعہ 370 اور 35-A بحال کر کے کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تسلیم کرنے سے قبل بھارت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنے سے بھارت یہ تاثر دے گا کہ پاکستان نے کشمیر کے حوالے سے اس کے اگست 2019 کے اقدامات کو تسلیم کر لیا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ پاکستان کی حکومت اور ریاستی ادارے پورے طرح چاک و چو بند ہیں اور ہمیں پورا اعتماد ہے کہ وہ پاکستان کے مفادات کا بھرپور تحفظ کریں گے۔ جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا پاکستان نے کشمیر کے حوالے سے اپنے دیرینہ موقف میں کوئی تبدیلی یا لچک پیدا کر لی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہ بھارت جانتا ہے کہ وہ جنگ کے ذریعہ پاکستان پر کبھی غلبہ حاصل کر سکتا ہے اور نہ ہی وہ پاکستان کو ڈکٹیٹ کر سکتا ہے۔ اس لیے یہ کہنا کہ پاکستان کشمیر کے حوالے سے بھارت کے ساتھ جنگ نہیں لڑنا چاہتا درست نہیں ہے۔ پاکستان اگر جنگ نہیں چاہتا تو اس کی کئی دوسری وجوہات ہیں کیونکہ ہم مسائل کا حل جنگ اور تصادم کے بجائے بات چیت اور پر امن ذرائع سے تلاش کرنے پر یقین رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگست 2019 کے بھارتی اقدامات کے بعد بھارت کو بین الاقوامی برادری کی طرف سے جس دباؤ کا سامنا کرنا پڑا اس کی وجہ سے وہ بات چیت کے ذریعہ مسائل حل کرنے پر وقتی طور پر مجبور ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت کی طرف سے 35A کی بحالی اعتماد سازی کے لیے کافی نہیں بلکہ بھارت کو پورے مقبوضہ جموں و کشمیر کو متنازعہ علاقہ تسلیم کر کے 5 اگست 2019 سے پہلے کی پوزیشن بحال کرنی ہو گی اور اگر بھارت اس جانب پیش رفت کرتا ہے تو یہ بھارت کے ساتھ مذاکرات کی بنیاد بن سکتا ہے۔ صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ کشمیریوں کو ریلیف صرف اسی صورت مل سکتا ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر میں محاصرہ ختم کرے، کشمیریوں کو باندھ کر مارنے کا سلسلہ فی الفور روک دے، بھارت سے ہندوؤں کو لا کر کشمیر میں آباد کرنے اور ریاست کی آبادی کے تناسب کو بگاڑنے کی کوششیں ترک کرے، انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگی جرائم کا سلسلہ روک دے کیوں کہ یہ بھارت اور پاکستان کا کوئی دو طرفہ معاملہ نہیں بلکہ یہ بین الاقوامی قوانین کی بھی صریخاً خلاف ورزی ہے۔ صدر سردار مسعود خان نے کہ جموں و کشمیر کے عوام پاکستان کو ایک مضبوط اور خوشحال ملک دیکھنا چاہتے ہیں لیکن ہم یہ بھی سمجھتے ہیں کہ آج پاکستان کو جن معاشی مسائل کا سامنا ہے اس کا کشمیر سے کوئی تعلق نہیں۔ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے جنرل پرویز مشرف کے فارمولا کے بارے میں پوچھے کے ایک سوال کے جواب میں صدر آزاد کشمیر نے کہا کہ یہ ایک پیچیدہ فارمولا ہے جس پر کشمیری قیادت کو 2008 میں بھی تحفظات تھے اور آج بھی تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا چونکہ اس فارمولا کو پیش کرنے اور اس کی حمایت کرنے والے کردار اب منظر پر نہیں ہیں لہذا اس فارمولا کی کشمیر کی موجودہ صورت حال سے کوئی نسبت اور تعلق نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ خود بھارت کی موجودہ حکمران جماعت بی جے پی بھی اس فارمولا کے مخالفین میں شامل تھی اب وہ کیسے اس کو قبول کرنے کے لیے تیار ہو جائے گی۔