اسرائیلی جنگی جرائم سے مشرق وسطیٰ تباہی کے دہانے پر

سرزمین فلسطین پر صیہونی ریاست کی جارحیت و بربریت سے مشرق وسطیٰ آج بدامنی اور خانہ جنگی کی لپیٹ میں ہے،مظلوم فلسطینیوں کو اسرائیل کے مظالم سہتے سہتے 54 برس سے زائد ہو چکے ہیں لیکن یہ ظلم کی سیاہ رات ہے کہ چھٹنے کا نام نہیں لے رہی۔مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیوں کی تعمیر اور اقوام متحدہ،عالمی برادری اور امریکہ کا دوہرا معیار قیام امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بنا ہوا ہے۔اسلام اور فلسطین کے تشخص کا خاتمہ شروع ہی سے صیہونی حکومت کے پیش نظر رہا ہے یہی وجہ ہے کہ اس منصوبے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کیلئے امریکی آشیرباد پر صیہونی ظلم وستم کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔عالمی برادری کی طرف سے مقبوضہ علاقوں میں یہودی بستیاں تعمیر نہ کرنے کے مطالبات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اسرائیل یہودی آباد کاری کیلئے آئے روز مظلوم فلسطینیوں کی زمینیں غصب کر رہا ہے اور اب تک ایک اندازے کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے پر 5 لاکھ سے زائد یہودی آباد کاروں کو بسایا جا چکا ہے۔

اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کے عالمی اداروں کی طرف سے صیہونی مظالم کے اعتراف کے باوجود آج تک صرف لفظی مذمت پر ہی اکتفا کیا گیا جس سے عملی طور پر فلسطینیوں کی کوئی مدد ہوئی اور نہ ہی کبھی ان حملوں کی روک تھام کے لئے کوئی اقدامات دیکھنے کو ملے لیکن اب بین الاقوامی فوجداری عدالت کی طرف سے فلسطینی علاقوں میں صیہونی ریاست کے مبینہ جرائم کی باضابطہ تحقیقات شروع ہونے کے بعد امریکہ کا اس پر احتجاج سمجھ سے بالاتر ہے۔امریکہ کی نائب صدر کملا ہیرس نے اسرائیلی وزیراعظم کو اپنی حمایت کا یقین دلاتے ہوئے جنگی جرائم کی تفتیش کی جو مخالفت کی ہے وہ سوالیہ نشان ہے۔واشنگٹن کے مطابق آئی سی سی کو فلسطینی علاقوں میں اسرائیلی ریاست کے خلاف جرائم کی تحقیقات کا مینڈیٹ حاصل نہیں لیکن ججز نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ان کا فیصلہ ہیگ میں قائم عدالت کی بنیاد رکھنے والے دستاویزات کے دائرہ اختیار کے اصولوں پر مبنی ہے اور اس سے ریاست یا قانونی حدود کا تعین کرنے کی کسی کوشش کی ضرورت نہیں۔اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کی تحقیقات کے لئے 2019ء میں غزہ کی پٹی پر اسرائیلی فوجی کارروائیوں اور مغربی کنارے میں یہودی آباد کاری کی سرگرمیاں بھی ٹھوس جواز مہیا کرتی ہیں۔قابل غور امر یہ ہے کہ عالمی عدالت انصاف کی تحقیقات میں 2014ء میں اسرائیلی فوج اور غزہ کے فلسطینیوں کے درمیان ہونے والی 50 روزہ جنگ کے واقعات کی بھی تحقیق ہو گی،یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ 2010ء میں غزہ جانے والے فریڈم فلوٹیلا 3 جہازوں سے ایک”مادی مرمارا“ پر 10 ترک کارکنوں کے اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں قتل کئے جانے کے واقعہ کی تحقیقات سے انکار کیا گیا تھا تاہم موجودہ صورتحال میں پیشرفت کی ایک معقول بنیاد موجود ہونے کے ساتھ ساتھ قابل قبول مواد بھی موجود ہے۔13 جون 2014ء سے لے کر اب تک کے اسرائیل کے زیر قبضہ غرب اردن،مشرقی یروشلم اور غزہ کی پٹی میں ہونے والے واقعات کا احاطہ کرتے ہوئے آئی سی سی کو اب مقبوضہ علاقوں میں قتل عام روکنے کیلئے معاہدوں روم کے مطابق کارروائی کرنا ہو گی جنہیں اقوام متحدہ بھی تسلیم کرتا ہے۔یاد رہے کہ اسرائیل نے کبھی بھی معاہدہ روم کی توثیق نہیں کی لیکن اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے 2015 ء میں فلسطینیوں کے الحاق کی توثیق کر دی تھی۔اسرائیلی وزیراعظم فیصلہ یہودیت مخالفت،منافقت کا مظہر ہے اور یہودی عوام کے خلاف نازیوں کے ذریعے ہونے والے مظالم کی تکرار کو روکنے کے لئے قائم کردہ عدالت اب یہودی عوام کے خلاف استعمال ہو رہی ہے نیتن یاہو کے جارحانہ عزائم کو آشکار کر رہا ہے۔
صیہونیوں نے بیسویں صدی کے اوائل میں فلسطین کی جغرافیائی اہمیت کے پیش نظر اسے اپنے قبضہ میں کرنے کا پروگرام ترتیب دیا تھا۔عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں اس وقت یہ سازش عملی شکل اختیار کر گئی تھی جب دنیا کے نقشے پر مسلمانوں کے قلب میں واقع اسرائیل نامی ناجائز صیہونی ریاست کا اعلان 15 مئی 1948ء کو ہوا تھا۔اسرائیل جب ایک الگ ریاست کے طور پر دنیا کے نقشے پر ابھرا تھا تو اس وقت اس کا کل رقبہ صرف 5 ہزار مربع میل اور اس کی حدود میں کم و بیش 5 لاکھ یہودی آباد تھے جبکہ اب اسرائیل کا رقبہ 34 ہزار مربع میل اور آبادی 57 لاکھ سے زائد ہے۔اسرائیل نے 16 یہودی بستیوں کو 1948ء میں زیر تسلط آنے والے علاقوں کے ساتھ ملا دیا تھا تاکہ صیہونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم پورے ہو سکیں۔تسلط و طاقت کے فلسفہ پر قائم ناجائز ریاست کے ظلم و جور اور سفاکیت و بربریت کا سلسلہ ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز تر ہوتا جا رہا ہے۔1967ء کی جنگ میں اسرائیل نے مصر سے غزہ کی پٹی بھی چھین لی بعد ازاں مزید علاقوں پر قابض ہوتا چلا گیا۔صیہونی ریاست نے 16 یہودی بستیوں کو 1948ء میں زیر تسلط آنے والے علاقوں کے ساتھ ملا دیا تھا تاکہ صیہونی ریاست کے توسیع پسندانہ عزائم پورے ہو سکیں۔مقبوضہ بیت المقدس کے علاقے میں فلسطینیوں کی ہتھیائی گئی اراضی پر 26 یہودی بستیوں میں لاکھوں صیہونی رہائش پذیر ہیں،یہ تعداد غرب اردن میں یہودی آباد کاروں کا 54.6 فیصد بنتی ہے،البریح اور رملہ کے علاقہ میں 24 یہودی رہائشی منصوبوں میں ہزاروں یہودی رہائش پذیر ہیں۔یہودیوں نے مسجد اقصیٰ سے 150 میٹر کے فاصلے پر ”معالیہ از یتیم“ کے نام سے ایک کالونی بھی تعمیر کی ہے جس میں 132 رہائشی اپارٹمنٹس ہیں،اگر اسرائیل کو اس قسم کے اقدامات سے روکا نہ گیا تو وہ پورے فلسطین پر قبضہ کر سکتا ہے۔اسرائیلی حکومت غزہ کی پٹی پر قبضے کے بعد سے علاقے میں یہودی بستیوں کی تعمیر کے حوالے سے سینکڑوں منصوبے بنا چکی ہے جن پر مکمل عمل درآمد ہو چکا ہے ۔26 بستیاں تو مقبوضہ بیت المقدس میں جبکہ رملہ اور البریح ضلع میں 24 یہودی بستیاں قائم کی گئی ہیں۔
اسرائیل جو کہ آج اسلحہ پیدا کرنے والا ایک بڑا ملک بن چکا ہے اس کا وجود دراصل انگریزوں کا ہی مرہون منت ہے۔نیتن یاہو حکومت کے جنگی جنون کا خمیازہ اسرائیلی عوام پر بجلی بن کر ٹوٹ رہا ہے۔آج امریکہ کے تمام فیصلہ ساز ادارے یہودی لابی ہی کے ماتحت ہیں اور پینٹاگان پر بھی یہودی ہی قابض ہیں۔اس میں کوئی شک وشبے کی گنجائش نہیں ہے کہ اسرائیلی معیشت کا پہیہ امریکی امداد سے ہی چل رہا ہے کیونکہ اس کا وجود دراصل انگریزوں کا ہی مرہون منت ہے اور یہ حقیت اب سب پر عیاں بھی ہو چکی ہے کہ اسرائیلی کا پشتیبان امریکہ ہی ہے یہی وجہ ہے کہ آج تک عالمی برادری اور انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے اسرائیلی مظالم پر صرف لفظی مذمت کرنے پر اکتفا کرتے آرہے ہیں۔عالم اسلام کا دفاع اور مظلوم مسلمانوں کی مدد ہم سب پر فرض ہے لیکن اسرائیلی بربریت اور جارحیت پر او آئی سی، عرب لیگ اور دیگر مسلم ممالک کی خاموشی بھی لمحہ فکریہ سے کم نہیں ہے، یہاں ضرورت اب اس امر کی ہے کہ دین اسلام کی ترویج اور امت مسلمہ کے تحفظ کیلئے تمام مسلم ممالک مشترکہ لائحہ عمل مرتب کریں تاکہ مظلوم فلسطینیوں کو اسرائیلی جارحیت اور بربریت سے نجات دلائی جا سکے۔اسرائیلی قبضے اور مظالم کیخلاف مظلوم فلسطینیوں کی قربانیاں ناقابل فراموش ہیں جنہیں عالمی برادری بھی تسلیم کرتی ہے اس کا اندازہ اس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ فلسطین پر اسرائیلی بربریت پر یو این او کی جو متعدد بار رپورٹس جاری ہوئی ہیں اس میں اسرائیلی ظلم و تشدد کا برملا اعتراف کرتے ہوئے مقبوضہ علاقے میں اسرائیل کے ناجائز تسلط اور انسانی حقوق کی بدترین پامالی پر شدید تنقید کی گئی ہے۔صیہونی حکومت کے ظالمانہ برتاؤ سے متعلق عالمی برادری خصوصاً اقوام متحدہ کی سستی و کاہلی اور مغرب کی ہمہ گیر حمایت نے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کو اپنی ظالمانہ اور توسیع پسندانہ پالیسیوں کو جاری رکھنے کے سلسلے میں گستاخ بنایا ہوا ہے لہٰذا اقوام متحدہ پر بھی بڑی بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی ہی قراردادوں پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کرے۔